سماجی بغاوت نے کوکاکولا تیونس میں عارضی ملازمت کے خلاف جدوجہد میں بہتری .. یونین کے مذاکرات ایجنسی ورک کا خاتمہ

تیونس میں بڑے پیمانے پربغاوت سے بن علی کو اقتدار سے ھٹا دیا گیا جس نے کمپنیز کی طاقت کے توازن کو بھی بدل دیا۔ ٹریڈ یونینز نے اس انتشار سے بھر پورمعاشرے میں ھم آہنگی اور منظم ہونےمیں بہت اھم کردار ادا کیا ۔ کوکاکولا تیونس بوٹلرایس ایف بی ٹی پر یونینوں کوایجنسی ورک کے خاتمہ اور عارضی ملازمتوں کے معاہدوں کو ختم کرنے کا موقع مل چکا ھے۔آئی یو ایف کو یکم فروری 2011 کوحسین کریمی سے بات کرنے کا موقع ملا جو کہ انٹرنیشنل کمپنیزمیں ھمارے ملحقہ ایف جی اے ٹی ۔ یو جی ٹی ٹی کے جوابدہ ھیں۔
س: کوکاکولا کے کارکنان نےکس طرح ملک میں ھونے والے اتنے بڑے احتجاج کا جواب دیا؟
جواب: ھم نے آمریت کے خلاف ھم نے والے ہر مظاہرے میں شرکت کی اور ساتھہ ھی ھم نے غیر منظم مزدوروں کو منظم کیا کہ وہ اپنی خراب صورتحال کے حل کے لئے مطا لبہ کریں۔ وہ ایک لیبر ایجنسی کے لیے کام کرتے رھے ھیں جہا ں پر ھماری یونینز کے اجتماعی معاہدوں کو لاگو نہیں کیاجا تا۔ جہا ں نہ تو سوشل سیکیورٹی ھے اور نہ ھی ملازمتوں کا تحفظ ۔ وہ عارضی معاہدوں پر کام کر رھے ہیں جس کی ہر سال تجدید کی جاتی تھی۔ ان میں کچھہ ورکرزایسے بھی ہیں جو کئی سالوں سے کام کر رھے ہیں ۔ انہیں ھماری یونین میں شامل ھونےسے روکا جاتاھےکہ اس طرح وہ اپنی ملازمت گنواد یں گے اورایسا پچھلے سال بی ایس ٹی،مرچنڈائزنگ سبسڈری پر کارکنان کے ساتھہ ھوا۔ھمارا صرف ایک مطالبہ تھاکہ ان ایجنسی کے کارکنان کو بحیثیت براہ راست ایس ایف بی ٹی کے ورکرز کے تسلیم کیا جائے ۔ تیونس کے قانون کے مطابق ہر ورکر جس نے 4 سال ملازمت کی ہوگی وہ مستقل معاہدے کے تحت ملازم ہو جائے گا، ہم نےیہ مطا لبہ کیا تھا کہ ان ورکرز کو کوکاکولا کے ذریعے مستقل ملازمت دی جائے، ایجنسی کے ذریعے نہیں۔ دوسروں کے لئے جن کی ملازمت کی مد ت 4 سالوں سے کم ھے ان کے لئے ھم نے یہ مطا لبہ کیا کہ ان کے ساتھہ عارضی معاہدے کیے جائیں جو کہ براہ راست ایس ایف بی ٹی سے ھوں اور 4سال بعد انہیں مستقل کیا جائے۔
س: فیکٹری کی سطح پر یونین نے کیا ایکشن لیا ؟
ج: ھم گذشتہ سال سے عارضی ملازمتوں کے ایشو پر کام کر رھے تھے۔ یہ ایک بہت مشکل پیش رفت تھی۔ اب ایک نئی صورتحال ھےکہ ورکرز نے اپنے مطا لبا ت کی حما یت میں ملک پر پہلی بار 10کوکاکولا بوٹلنگ پلانٹوں میں سے ایک پلانٹ میگرائن پر ہڑتال کردی ۔انہوں نے پورے ایک ہفتے ہڑتال کی تھی۔ ھم بھی لیبر انسپیکشن میں شامل رھے تھے۔
س: کیا مستقل ملازمین ہڑتال میں شامل ھوئے تھے ؟
ج: جی ہاں! مگر پہلے ھم نے انہیں راضی کیا تھا۔ شروع میں انہوں نے کہا تھا کہ ان اپنے لئےبہت سارے مطالبات ھیں۔ ھم نے وضاحت کی تھی کہ صرف ایک مقصد ھے کہ عارضی ملازمتوں کے سسٹم کے خلاف جدوجہد کرنی ھے ۔ ایک بار یہ حل ھو جائے تو یہ ھمیں زیادہ مضبوط کرے گا اور پھر فیکٹری میں ایک مضبوط اور متحد یونین کی حیثیت سے دوسرے مطالبات کو منوانا آسان ھوگا۔
س: کوکاکولا کی انتظامیہ نے ہڑتال اور مطالبات پر کس طرح کا ردِ عمل ظاہر کیا تھا ؟
ج: میگرائن میں مذاکرات واقعی مشکل تھے۔ دوسرے پلانٹوں پر مقامی اتنے متحرک نہیں تھے کہ جتنے میگرائن میں تھے۔ ھم نے یہاں آگے بڑھنے کے لئے توجہ مرکوز کردی تھی۔ انتظامیہ نے اس کی مخالفت میں کہا کہ اگر آپ نے بہت زیادہ مطالبات کیے تو ھم میگرائن میں بوٹلنگ پلانٹ کو بند کر سکتے ہیں ۔ انتظامیہ زیادہ وقت حاصل کرنے کی کوششیں کررھی تھی یہ کہہ کر کہ وہ اس غیرمحفوظ سیاسی ماحول میں کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے ہم اسے اس وقت دیکھیں گے جب ہر چیز پر امن ھوگی; وغیرہ۔ لیکن ھمنے ان پر یقین نہیں کیا تھا۔ آخرکار وہ مسائل کو حل کرنے کے لئے تیار نہیں تھے جب تک ہر چیز جیسی احتجاج سے پہلے جیسی نہ ھو جائے ۔ ھم نے آخر میں میگرائن میں انہیں راضی کرنے کا انتظام کیا کیونکہ یہ بات تو واضح تھی کہ جب تک ھمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے اس وقت تک ہڑتال جاری رھے گی۔ انتظامیہ کے ساتھہ ایک طویل بحث کے بعد بلا آخر انہوں نے ھمارے مطالبات کو میگرائن کے لئے تسلیم کرلیا . لیبر انسپیکشن بھی ایک مثبت حل کے لئے ھماری مدد کررھا تھا۔
س: میگرائن کی اس پیش رفت کے کیا نتائج تھے ؟
ج: ھم نے ایک معاہدہ سائن کیا تھاکہ تمام عارضی ملازمین جو کہ چار سال پورے کر چکے ھیں انہیں براہ راست کوکاکولا بوٹلر کے ساتھہ مستقل معاہدوں کے تحت ملازمت دی جائے گی اسطرح 78ورکرزمستقل ھو نگے۔ ایجنسی ورکرز جو کہ دو سال سے زیادہ کوکاکولا میں ملازمت کر چکے تھے وہ اب عارضی بنیادوں پر براہ راست کوکاکولا کے ذریعے ملازم ھو نگے ۔ اس سے 38 ایجنسی ورکرزکو فائدہ ہوگا۔ ھمارے سرگرم کارکنان نے ناموں کی ایک لسٹ تیار کی جنہیں مستقل کرنا تھا اور انتظامیہ کے پاس بھی اپنی ایک لسٹ تھی۔ اس کا حل ھم نے یہ نکالا کہ اب ایک مشترکہ لسٹ ھمارے معاہدے کا حصہ ھے
س: اس کے بعد کیا ھوا ؟
اس کے بعد ،اس مثال کی پیروی دوسری فیکٹریز کی مقامی یونینز نے بھی کی تھی۔ ھم نے انہیں گفت وشنید و مذاکرات کے لئے تیار کرنے کے لئے بہت کام کیا لیکن اور بھی زیادہ اھم کارکنان کو متحرک کرنا تھا۔ ھم جانتے تھے کہ ھمیں اور زیادہ دباؤ ڈالنے کی ضرورت تھی۔ بغیر متحرک ھوئے ھم کامیابی کےساتھہ مذاکرات نہیں کرسکتے۔ ھم نے بین آروز کے بڑے پلانٹپر مذاکرات شروع کئےاور31 جنوری کو بیجا پلانٹ کے ورکرز نے ہڑتال کردی۔ کوکاکولا چارگویا پلانٹ اور بریسری ڈی تیونس کے ورکرز نے ان کی پیروی کرتے ھوئے یکم فروری کو ہڑتال کرد ی۔ اس د ن ھم 300 سے زیادہ ورکرز مظاہرہ کرنے کے لئے ایس ایف بی ٹی کے ھیڈ کوارٹرزکے باہر جمع ھو گئے جہاں مذاکرات ھوئے۔جب انتظامیہ یہ جان گئی کہ احتجاج کی یہ لہر جاری رھے گی تو ھم بہت تیزی سے اپنے مقاصد تک پہنچ گئے۔ ھم ایک معاہدہ سائن کر چکے ھیں کہ اب لیبر ایجنسیز کو ایس ایف بی ٹی گروپ کے کسی بھی ادارے میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔ جو کہ ان میں مؤثر ھوگا : مشروبات، بروری، ڈیری آپریشن بلکہ بار اور قہوہ خانوں پر بھی جو کہ اس گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایس ایف بی ٹی ان تمام ورکرز کوجو لیبر ایجنسی اور عارضی معاہدوں کے ذریعے اپنی ملازمت کے چار سا ل پورے کر چکے تھے انہیں مستقل کرد یا جائے گا۔ اس سے 1000 سے زائد ملازمین کو فائدہ ھوا۔ ہر ورکر جو چار سا ل سے ملازمت کر چکا تھا وہ ایس بی ایف ٹی کا براہ راست عارضی ملازم ہوگا اور مشترکہ سوداکاری کے معاہدے کے تحت محفوظ بھی۔ یہ بھی تقریباً 1000ورکرز کے مفاد میں تھا۔
س: اگلے اقدامات کیا ھو نگے ؟
ج: ھم بہت احتیا ط سے معاہدے کے نفاذ کے لئے نگرانی کریں گے۔ ہر لوکیشن پر انتظامیہ اور یونین دونوں اس لسٹ پر متفق ہیں جنہیں مستقل کیا جا ئے گا۔کارکنان اپنے دستاویزات حا صل کر کے اسے ایس ایف بی ٹی کے سامنے پیش کریں گے اس کے بعد انہیں یکم فروری سے مستقل مانا جائے گا۔ ھم اس کے لئے وقت کا تعین کر چکے ھیں کہ اس کام کو 31 مارچ تک ختم کردیا جائے۔ ھم اس کو یقینی بنائیں گے کہ تمام کارکنان یونین میں شمولیت حاصل کریں اوراس کے ذریعہ ھم مزید مضبوط ھونگے۔ھم آج کل اسی طرح کا کام دوسرے سیکٹرز میں بھی کر رھے ھیں اور ھمیں امید ھے کہ جلد ھی اس طرح کے اور بھی معاہدے کیے جا ئیں گے۔

Choose your language: