ساوتھہ انڈیا میں کو کا کولا پلانٹ پر ایک نئی یونین کی تشکیل

فروری 2011 کو ساوتھہ انڈیا کی اسٹیٹ آندراپردیش میں کوکاکولا باٹلنگ پلانٹ کالاہاستی میں پہلی بار ایک یونین تشکیل دی گئی ۔ یہ پلانٹ 2003 میں ایک باٹلر فرنچائز کے طور پر کھولا گیا تھا لیکن بعد میں اسے ٹی سی سی سی نے چار سال قبل ٹیک اوور کر لیا تھا۔
یونین کی تشکیل کے دوسرے ہی دن مقامی انتظامیہ نے رد عمل کے طور پر دو یونینز قائم کر دیں ۔ پلانٹ پر 111 مستقل ورکرز کام کرتے ہیں جس میں سے 73 مستقل ورکرز حققیقی یونین کے ممبرز ہیں۔ یہاں تقریبا 300 عارضی ورکرز کام کرتے ہیں ۔اس کے فوری بعد یونین کے جنرل سیکریٹری سی کمار سوامی کو انتظامیہ کی جانب سے بے بنیاد الزامات لگا کر ہراساں کیا گیا اور ایک جانبدارانہ انکوئری میں انھیں مجرم ٹھرایا۔ تاہم یونین کے رد عمل سے گھبرا کر انتظامیہ نے کسی سزا کا نفاذ نہیں کیا۔
درحقیقت ایک دوسرے باٹلنگ پلانٹ یونین کے یونین لیڈرنے بھی انتظامیہ کی جانب سے اسی قسم کے الزامات کا سامنا کیا تھا کہ جب وہ 2009 میں کوکاکولا کالا ہاستی میں یونین سازی میں ایک اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ جی وی رادھا کرشنا ویسکا پٹنام میں کوکاکوا پلانٹ پر ہندوستان کوکاکولاورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری ہیں انھوں نے بھی انتظامیہ کی جانب سے ہراساں کرنا اور بے بنیاد الزمات کا سامنا کیا تھا پھراس ہرساں کئے جانے کو آئی یو ایف کی مداخلت سے ختم کیا گیا۔ اس وقت رادھا کرشنا نے خود کو آنداپردیش اور کرناٹک میں کوکاکولا کے ورکرز کو منظم کرنے کے لئےوقف کر دیا۔ یہ ایک مظاہرہ تھا جو کہ ٹریڈ یونین حقوق کے لئے آئی یو ایف کی حمایت میں کیا تھا۔
سی کمار سوامی ، جنرل سیکریٹری) دائیں جانب سے دوسرے (اور وی موھن گود خزانچی )دائیں ( جی وی رادھا کرشنا )بائیں( سے انتظامیہ کی طرف سے ہراساں کئے جانے پر گفت و شنید کر رھے ہیں ۔ کمار سوامی کیسر آپریٹر ہیں اور اس پلانٹ پر 2003 سے کام کر رھے ہیں جب سے اس پلانٹ نے کام کرنا شروع کیا، مو ھن گود بھی بحیثیت فٹر 2003 سے کام کر رھے ہیں۔

Choose your language: