کام نہیں تو تنخواہ نہیں " انڈیا یونینز کی اس سسٹم کے خلاف جنگ

جنوبی انڈیا میں کوکا کولا فیکٹری میں کام کرنے والی یونینز نے "کام نہیں تو تنخواہ نہیں " سسٹم کے خلاف اپنی کوششیں تیز کر دیں ھیں جو کہ عارضی ورکرز کو مزید غربت میں دھکیل رہا ھے۔ اس جدوجہد کی بنیاد پچھلے سال کرناٹک کوکا کولا ھوسپٹ میں ھونے والا معاہدہ ھے۔
انڈیا کی تقریبا تمام کوکا کولا فیکٹریوں میں عارضی ورکرز سے نو ورک نو پے سسٹم کے تحت کام لیا جاتا ھے ۔ عارضی ورکرز ہر روز پلانٹ پر رپورٹ کرتے ھیں اور اگر کام نہیں ھوتا تو انہیں واپس گھر بھیج دیا جاتا ھے۔اگر کبھی ورکرز پورا دن فیکٹری گیٹ کے سامنے کھڑے رھیں تب بھی انہیں ادائیگی نہیں کی جاتی کیونکہ انھیں کام تفویض نہیں کیا گیا ھوتا۔ فیکٹری آنے اور جانے کے سفری اخراجات انھیں خود برداشت کرنے پڑتے ھیں۔ اس کا مطلب یہ ھوا کہ جب کام نہیں ھوتا تو وہ رقم اپنی جیب سے خرچ کرتے ھیں۔
ایک ایسی ورکر جو بحیثیت فائنل بوٹل انسپیکٹر کام کرتی ھیں اسے فیکٹری آنے جانے کا بس کا کرایہ 35 روپے ملتا ھے۔ اگر ایک ورکر کو 20 دن کام دیا جاتا ھے تو باقی 10 دن تک فیکٹری آنے جانے کے اخراجات وہ خود برداشت کرے گی تقریبا 350 روپے ۔اس کا مطلب یہ ھوا کہ وہ اپنی ماہا نہ تنخواہ کا 10 سے 12 فیصد حصہ سے محروم ھو رھی ھیں۔ ایک ماہ میں یہ نقصان اس کے پراویڈنٹ فنڈ کی کٹوتی سے بھی زیادہ ھے۔
پچھلے سال 25 ستمبر 2010 کو کانٹریکٹ ورکرز کی یونین اورایچ سی سی بی کی انتظامیہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا یہ معاہدہ لو سیزن میں عارضی ورکرز کو 26 دن کے کام کی ضمانت دیتا ہے۔اس معاہدہ کے تحت 134 عارضی ورکرز کو لو سیزن میں 26 دنوں کے کام کی ضمانت دی گئی۔
اس معاہدہ پر گفت و شنید آئی یوایف کے ذریعہ ممکن ھوئی تھی اوراس گفت و شنید میں پہلی بار ایک خاتون ورکر بھی شامل تھیں۔ دیدی کرشنا وینی جو کہ کوکاکولا ھوسپٹ ورکرز یونین کی ایگزیکٹو ممبر ھیں ۔ ملکی سطح پر ھونے والی گفت و شنید میں شامل تھِیں۔
26 مئی کو ساوتھ انڈیا میں کوکا کولا یونینز کی ایک میٹنگ منعقد ھوئی اس میں دوسری عارضی ورکرز کی یونیز کے ساتھہ امین پور کی یونینز بھی شامل تھیں۔ تمام ورکرز نے یہ عہد کیا کہ ھوسپٹ میں ھونے والا معاہدہ ان کے لئے ایک مثال ھے اور وہ اس کو سامنے رکھتے ھو ئے " کام نہیں تو تنخواہ نہیں " سسٹم کا خاتمہ کریں گے۔

Choose your language: